Tuesday, September 27, 2016

غزل
محبت کا کچھ اس طرح ہم کو صلہ دیتا ہے،
کمال کا شخص ہے، بھری محفل میں رلا دیتا ہے ||

اس پروفائل کا مثال کیا دوں "مینک"
میرے آنسوؤں کو اپنی پلکوں پہ سزا لیتا ہے ||

اپنے گھر میں آفتاب-اے-روشنی کی خاطر،
میرے خطوط کو شوق سے جلا دیتا ہے ||

کتنا بھی گریز کرو، محبت سے یاروں،
وقت کسی نہ کسی سے کسی دن، ملا دیتا ہے ||
جب بھی چاہا تلافی، راہ اے-زندگی میں،
یہ زمانہ، كمبكھت هربار گرا دیتا ہے ||

یاد رکھتا ہے، کون یںہا كسيكو یاروں،
وقت کے ساتھ، جامنا سب کچھ بھلا دیتا ہے ||

ہونے لگتی ہے جلن آفتاب کو بھی محبت سے اس کی،
وہ چھاؤں کرنے کو چہرے پہ میری، جلپھے پھیلا دیتا ہے ||

تھک جاتی ہے جب زندگی، درد سہتے -سهتے،
تو موت اس گہری نیند میں سلا دیتا ہے ||
 (مینک آرین)

No comments: