غزل
محبت کا کچھ اس طرح ہم کو صلہ دیتا ہے،
کمال کا شخص ہے، بھری محفل میں رلا دیتا ہے ||
اس پروفائل کا مثال کیا دوں "مینک"
میرے آنسوؤں کو اپنی پلکوں پہ سزا لیتا ہے ||
اپنے گھر میں آفتاب-اے-روشنی کی خاطر،
میرے خطوط کو شوق سے جلا دیتا ہے ||
کتنا بھی گریز کرو، محبت سے یاروں،
وقت کسی نہ کسی سے کسی دن، ملا دیتا ہے ||
جب بھی چاہا تلافی، راہ اے-زندگی میں،
یہ زمانہ، كمبكھت هربار گرا دیتا ہے ||
یاد رکھتا ہے، کون یںہا كسيكو یاروں،
وقت کے ساتھ، جامنا سب کچھ بھلا دیتا ہے ||
ہونے لگتی ہے جلن آفتاب کو بھی محبت سے اس کی،
وہ چھاؤں کرنے کو چہرے پہ میری، جلپھے پھیلا دیتا ہے ||
تھک جاتی ہے جب زندگی، درد سہتے -سهتے،
تو موت اس گہری نیند میں سلا دیتا ہے ||
(مینک آرین)
No comments:
Post a Comment